حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ امام عصرؑ، سنگم ویہار، وزیرآباد، نئی دہلی میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے امامِ جمعہ سنگم ویہار، دہلی مولانا فرمان حیدر نقوی نے معرفتِ خدا، حقیقتِ بندگی، شکرِ نعمت، تقویٰ، عاجزی اور حسنِ اخلاق کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان اگر اپنے رب کو پہچان لے تو اسے اپنی حقیقت اور زندگی کے مقصد کا بھی شعور حاصل ہوجاتا ہے، جبکہ خدا کو فراموش کرنے والا انسان دنیا کی بے شمار نعمتیں حاصل کرنے کے باوجود اپنے وجود کے حقیقی مقصد سے دور ہوسکتا ہے۔
انہوں نے خطبے کا آغاز اس بنیادی سوال سے کیا کہ اللہ کون ہے اور میں کون ہوں؟ مولانا فرمان حیدر نقوی نے کہا کہ انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف جسم، نام، خاندان، عہدے، دولت یا چند سالہ زندگی کا نام نہیں، بلکہ اس کی اصل شناخت اللہ کا بندہ ہونا ہے۔ قرآن کریم انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ بے نیاز ہے اور تمام انسان اس کے محتاج ہیں؛ وہ ازلی و ابدی ہے جبکہ انسان فانی ہے، وہ قادرِ مطلق ہے جبکہ انسان کمزور اور محتاج ہے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان «أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دین کی بنیاد اللہ کی معرفت پر قائم ہے۔ جب انسان اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، توحید میں پختگی پیدا ہوتی ہے، اخلاص نصیب ہوتا ہے اور اس کے اعمال و کردار میں تبدیلی آتی ہے۔ اگر ہم اپنی نماز، اخلاق، گھریلو زندگی، کاروبار، زبان اور معاشرے میں اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے دلوں میں معرفتِ خدا کو جگہ دینی ہوگی۔
مولانا فرمان حیدر نقوی نے اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان اللہ کی نعمتوں کو مکمل طور پر شمار نہیں کرسکتا۔ آنکھیں، سانس، دل، والدین کی محبت، رزق، عقل، ہدایت، قرآن کریم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام جیسی نعمتیں اللہ کی عطا ہیں۔ ایک نعمت کا شکر ادا کرنے کی کوشش کی جائے تو دوسری نعمت سامنے آجاتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انسان کی زندگی اللہ کی نعمتوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن اس کی زبان پر اکثر شکوے رہتے ہیں، اس لیے ہمیں اپنے اندر شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ خالق ہے اور انسان مخلوق۔ انسان کو اپنی صحت، دولت، عہدے اور طاقت کو مستقل ملکیت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ انہیں اللہ کی عطا اور امانت سمجھنا چاہیے، کیونکہ جس نے یہ نعمتیں عطا کی ہیں وہ ایک دن ان کے استعمال کے بارے میں سوال بھی کرے گا۔
امامِ جمعہ سنگم ویہار، دہلی نے کہا کہ انسان کی اصل عزت اللہ کی بندگی میں ہے۔ اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی کا غلام نہ بنے؛ نہ دولت کا، نہ شہرت کا، نہ خواہشات کا، نہ تکبر کا اور نہ لوگوں کی خوشنودی کا، بلکہ صرف اللہ کا بندہ بنے۔
انہوں نے عبادت کے حقیقی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت صرف نماز، روزہ، حج اور دعا تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اثر انسان کی پوری زندگی میں ظاہر ہونا چاہیے۔ اگر نماز پڑھنے کے بعد انسان جھوٹ بولے، قرآن پڑھنے کے بعد ظلم کرے یا مجلس میں امام حسین علیہ السلام کا ذکر کرنے کے باوجود کسی کمزور انسان پر زیادتی کرے تو اسے اپنے کردار اور عبادت کے اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ حقیقی عبادت وہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور گناہوں سے دور کرے۔
مولانا فرمان حیدر نقوی نے کہا کہ اللہ کی یاد صرف مسجد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ بازار، دکان، کاروبار، گھر، موبائل کے استعمال اور تنہائی سمیت زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہی احساس تقویٰ کی بنیاد ہے۔ جب انسان کو یقین ہوجائے کہ اللہ اس کے اعمال سے باخبر ہے تو وہ حرام سے ہاتھ روک لیتا ہے، جھوٹ سے زبان محفوظ رکھتا ہے، غلط چیز دیکھنے سے آنکھوں کو بچاتا ہے، ظلم سے دور رہتا ہے اور کاروبار میں خیانت سے اجتناب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موت اور زندگی کو انسان کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ معلوم ہو کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ کامیابی کا معیار صرف دولت، شہرت اور طاقت نہیں، بلکہ بہتر عمل اور صالح کردار ہے۔ دنیا یہ پوچھتی ہے کہ انسان کے پاس کیا ہے، جبکہ دین اسے اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے جو کچھ ملا، اس کے ساتھ اس نے کیا کیا۔
امامِ جمعہ سنگم ویہار نے تکبر کے نقصانات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مال، علم، عہدہ، خاندان، نسل یا طاقت پر غرور انسان کو حقیقت سے دور کردیتا ہے۔ انسان کو اپنی اصل یاد رکھنی چاہیے؛ کل وہ مٹی تھا، آج چل پھر رہا ہے اور کل دوبارہ مٹی میں لوٹ جائے گا، پھر اسے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرفتِ خدا کا پہلا اثر عاجزی ہے۔ اگر انسان واقعی جانتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے تو اسے خود کو بڑا سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہر سانس اللہ کی عطا ہے تو غرور کیسا؟ اگر طاقت اللہ کی دی ہوئی ہے تو کمزور انسان کو کچلنے کا کیا جواز؟ اور اگر رزق کا مالک اللہ ہے تو حرام راستہ اختیار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے؟
انہوں نے کہا کہ معرفتِ خدا انسان میں عاجزی پیدا کرتی ہے، عاجزی حسنِ اخلاق کا سبب بنتی ہے اور حسنِ اخلاق ایک صالح معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
خطبے کے اختتام پر مولانا فرمان حیدر نقوی نے زندگی کی ناپائیداری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان دنیا میں اس طرح زندگی گزارتا ہے جیسے اسے ہمیشہ یہیں رہنا ہے، حالانکہ اس کے اردگرد کے لوگ ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہورہے ہیں۔ جن لوگوں کے ساتھ کل ہم اٹھتے بیٹھتے تھے، آج ان کی قبروں پر فاتحہ پڑھ رہے ہیں اور ایک دن دوسرے لوگ ہماری قبروں پر فاتحہ پڑھنے آئیں گے۔ اس وقت نہ مال کام آئے گا اور نہ دنیا کی تعریف، بلکہ انسان کے اعمال ہی اس کے ساتھ ہوں گے۔
انہوں نے مؤمنین کو نماز مضبوط کرنے، دل کو پاک رکھنے، زبان کی حفاظت کرنے، والدین کو خوش رکھنے، مظلوم کا ساتھ دینے اور اہل بیت رسول علیہم السلام کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ انسان اپنے دل میں یہ یقین پیدا کرے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، میری بات سن رہا ہے، میرے حالات سے واقف ہے اور ایک دن مجھے اسی کے حضور واپس جانا ہے۔
خطبے کے اختتام پر انہوں نے عالمِ اسلام، ملک و ملت اور مؤمنین کی خیر و عافیت اور سربلندی کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ